آزاد، غیر منافع بخش سیاحتی رہنما

حویلی کھڑک سنگھ: سکھ دور کی الگ تہہ

قلعے کو صرف مغل دور تک محدود سمجھنے سے اس کی بعد کی تاریخ چھپ جاتی ہے۔ حویلی کھڑک سنگھ ایک ایسے مقام کا تعارف ہے جہاں رہائش، دفتری کام اور تحفظ کے مختلف ادوار ایک دوسرے پر آتے ہیں۔

حویلی کس سے منسوب ہے؟

آپریٹر کے مخصوص حویلی صفحے کے مطابق یہ مہاراجہ رنجیت سنگھ کے عہد میں ان کے بیٹے کھڑک سنگھ کے لیے بنائی گئی۔ اس تفصیل میں رہائشی حصے اور نیچے کے گودام جیسے استعمال کو الگ بیان کیا گیا ہے۔ یوں یہ صرف قلعے کے اندر ایک اور محل کا نام نہیں بلکہ سکھ دور کی رہائشی تاریخ کا موضوع ہے۔

وقت کے ساتھ کام کیسے بدلا؟

آپریٹر برطانوی عہد میں گودام یا دفتری عملے کی رہائش اور بعد از آزادی محکمہ آثار قدیمہ کے دفتر و حوالہ جاتی کتب خانے کا ذکر کرتا ہے۔ ایک ہی عمارت کے یہ بدلتے کام اس بات کی یاد ہیں کہ ورثہ ہمیشہ ایک ہی حال میں محفوظ نہیں رہتا۔

دیکھنے کی صورت میں کمرے، اوپر اور نیچے کی منزل اور راستوں کا تعلق اہم سوال بنتا ہے۔ کون سی جگہ رہائشی کام سے مناسبت رکھتی ہے اور کون سی بعد کے انتظامی استعمال سے؟ جواب صرف قیاس پر نہ بنائیں؛ مقام کے مستند تعارف اور مجاز رہنمائی کو ساتھ رکھیں۔

تحفظ اور نئے استعمال کا منصوبہ

مخصوص صفحہ 2023 میں والڈ سٹی اتھارٹی کو سپردگی اور تحفظ کے بعد نئے استعمال کی منصوبہ بندی کا ذکر کرتا ہے۔ دوسرے منصوبہ جاتی صفحے میں مختلف مستقبل کے اہداف دیے گئے ہیں۔ کسی طے شدہ ہدف کی تاریخ گزر جانا کام مکمل ہونے یا میوزیم کھلنے کا ثبوت نہیں۔

یہی وجہ ہے کہ یہاں نئے کتب خانے، آرکائیو یا میوزیم کو لازماً آج کھلی سہولت نہیں کہا گیا۔ محفوظ عمارت کو نئے کام میں لانا ایک منصوبہ ہو سکتا ہے؛ اس کی موجودہ صورت کی تصدیق الگ ضروری ہے۔

قلعے کے دورے میں اس کی جگہ

جہانگیری احاطے اور قلعے کی عمومی تاریخ کے صفحات کے ساتھ یہ حویلی پڑھیں تو مختلف ادوار کے اضافوں کا فرق زیادہ واضح ہوتا ہے۔ اسے مہارانی جنداں سے منسوب دوسری عمارت کا بدل بھی نہ سمجھیں۔

اگر یہ مقام آپ کے دورے کی خاص وجہ ہے تو پہلے آپریٹر سے رسائی اور مجاز حصے معلوم کریں۔ پرانی تصاویر، کسی عمارت کا نقشہ یا تحفظ کی خبر خود بخود موجودہ بالائی منزل، چھت یا نمائش تک داخلہ ثابت نہیں کرتی۔